ایرانی پارلیمنٹ کے ڈپٹی اسپیکر علی نیکزاد کا کہنا ہے کہ ایران نے نیک نیتی کے تحت افزودہ یورینیئم کی مقدار کم کرنے پر آمادگی ظاہر کی تھی، مگر امریکا نے معاہدہ مکمل ہونے سے پہلے ہی پیچھے ہٹ گیا۔
انہوں نے بتایا کہ ایران میں یورینیئم کی پراسیسنگ کے لیے امریکا اور سعودی عرب کے ساتھ مشترکہ منصوبہ بھی زیر غور تھا، جو بعد میں ختم کر دیا گیا۔ نیکزاد کے مطابق امریکا نے آبنائے ہرمز کے لیے ایک قانونی فریم ورک کی تجویز بھی دی تھی، تاہم ایران کا مؤقف ہے کہ اس خطے میں امریکی مداخلت کی کوئی گنجائش نہیں۔
