بین الاقوامی قانون کے ماہر ڈوگلس گیولفولے کے مطابق سمندری ناکہ بندی کو معاشی دباؤ کے ایک طریقے کے طور پر تسلیم کیا جاتا ہے، مگر اس کے لیے سخت قانونی شرائط بھی موجود ہیں۔
ان کے مطابق ایسی ناکہ بندی میں غیر متعلقہ تجارتی جہازوں کو گزرنے کی اجازت دینا ضروری ہوتا ہے اور اسے مؤثر اور سب پر یکساں لاگو ہونا چاہیے۔ ساتھ ہی یہ بھی لازمی ہے کہ اس کے اثرات عام شہریوں پر منفی نہ پڑیں، خاص طور پر خوراک اور ادویات کی فراہمی متاثر نہ ہو۔
ماہرین کے مطابق ان شرائط کو مدنظر رکھتے ہوئے ہی کسی بھی ناکہ بندی کو بین الاقوامی قوانین کے تحت جائز یا ناجائز قرار دیا جا سکتا ہے۔
