بھارتی سپریم کورٹ نے ایک خاتون کی خودکشی کے مقدمے میں شوہر کو بری کرتے ہوئے قرار دیا ہے کہ ازدواجی زندگی میں معمولی اختلافات یا چند دن رابطہ نہ ہونا بذاتِ خود ظلم یا ہراسانی نہیں کہلا سکتا۔
عدالت نے اپنے فیصلے میں کہا کہ صرف 13 دن تک بات چیت بند رہنے کو، مضبوط شواہد کے بغیر، ایسا رویہ قرار نہیں دیا جا سکتا جو کسی شخص کو خودکشی پر مجبور کر دے۔ عدالت کے مطابق سزا کے لیے یہ ثابت ہونا ضروری ہے کہ ملزم کا طرزِ عمل غیر معمولی حد تک سنگین اور ذہنی اذیت کا باعث تھا۔
کیس میں خاتون نے اپنے والدین کے گھر میں خودکشی کی تھی جبکہ استغاثہ نے شوہر اور سسرال پر جہیز کے مطالبات اور ہراسانی کے الزامات عائد کیے تھے۔ تاہم عدالت نے قرار دیا کہ الزامات کو مطلوبہ قانونی معیار کے مطابق ثابت نہیں کیا جا سکا۔
اسی بنیاد پر سپریم کورٹ نے شوہر کی تین سال قید کی سزا ختم کرتے ہوئے اسے مقدمے سے بری کر دیا۔
