سندھ ہائی کورٹ نے 1980ء کی دہائی کے بڑے مالیاتی فراڈ کیس میں سزا یافتہ 9 ملزمان کی سزاؤں کو برقرار رکھنے کا حکم دے دیا ہے۔ عدالت نے وفات پا جانے والے بعض ملزمان کی سزائیں ختم کر دیں، تاہم ان کی جائیدادوں کی ضبطگی برقرار رکھی۔
عدالت نے چند ملزمان کو بری بھی کر دیا جبکہ فیصلے میں کہا گیا کہ عوام سے حاصل کی گئی رقوم اور ان سے بنائے گئے اثاثوں کے شواہد موجود ہیں۔ عدالت نے متعلقہ اداروں کو سرمایہ کاروں کے حقوق کے تحفظ اور اثاثوں کی وصولی کے عمل کو جاری رکھنے کی ہدایت بھی کی ہے۔
