آج دنیا بھر میں صاف توانائی کا دن منایا جا رہا ہے، جس کا مقصد ماحول دوست توانائی کے فروغ کی اہمیت اجاگر کرنا ہے۔ پاکستان نے پیرس معاہدے کے تحت 2030 تک اپنی توانائی کا 60 فیصد حصہ صاف ذرائع سے حاصل کرنے کا ہدف مقرر کر رکھا ہے۔
صاف توانائی میں شمسی ہوا اور پانی سے حاصل کی جانے والی بجلی شامل ہے، جو ماحولیاتی آلودگی اور گرین ہاؤس گیسوں میں کمی لانے میں مدد دیتی ہے۔ اس وقت پاکستان کا انحصار زیاده تر درآمدی تیل گیس اور کوئلے پر ہے، جس سے معیشت پر بھاری مالی دباؤ پڑ رہا ہے۔
ملک میں سولر توانائی تیزی سے مقبول ہو رہی ہے اور یہ کم لاگت بجلی کا مؤثر ذریعہ بنتی جا رہی ہے۔ تاہم ماہرین کا کہنا ہے کہ توانائی پالیسیوں میں حالیہ تبدیلیاں، خصوصاً نیٹ میٹرنگ سے نیٹ بلنگ کی طرف منتقلی، صاف توانائی کے پھیلاؤ کو متاثر کر سکتی ہیں۔
ماہرین کے مطابق قابل تجدید توانائی کا فروغ نہ صرف ماحول بلکہ معیشت کے لیے بھی فائدہ مند ثابت ہو سکتا ہے کیونکہ اس سے ایندھن کی درآمدات میں کمی آئے گی۔
عالمی یومِ صاف توانائی: پاکستان کے لیے بڑا چیلنج اور موقع
