ذات صلة

جمع

وفاقی وزیر چوہدری سالک حسین سے پارٹی رہنماؤں کی اہم ملاقاتیں

مرکزی سینئر نائب صدر پاکستان مسلم لیگ اور وفاقی...

اسحاق ڈار: اسرائیل کے اقدامات ناقابلِ قبول

پاکستان کے وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے کہا ہے کہ اسرائیل کے...

سعودی وزیر خارجہ سے اسحاق ڈار کا رابطہ

پاکستان کے نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے سعودی...

کیا سر پر بار بار لگنے والی چوٹیں دماغی نقصان سے جڑی ہیں؟

حالیہ تحقیق کے مطابق سر پر بار بار چوٹیں...

فریال گوہر اور جمال شاہ نے 30 سال بعد طلاق کی اصل وجہ بتا دی

پاکستانی شوبز کے سینئر اداکار Faryal Gohar اور Jamal Shah نے طلاق کے...

لاہور ہائیکورٹ نے ڈاکٹر شاہد صدیق قتل کیس میں گرفتار ملزم شاہد ندیم کی ضمانت منظور کر لی

سندھ ہائی کورٹ نے محکمہ تعلیم میں کنٹریکٹ پر بھرتی ہیڈ ماسٹرز کو موجودہ عہدے پر برقرار رکھنے کا حکم دے دیا۔

محکمہ تعلیم میں کنٹریکٹ پر بھرتی ہیڈ ماسٹرز کو مستقل کرنے کے کیس کی سماعت سندھ ہائی کورٹ میں ہوئی۔

عدالت نے 3 ماہ میں درخواست گزاروں کے کیسز سندھ پبلک سروس کمیشن (ایس پی ایس سی) کو بھیجنے کا حکم دیتے ہوئے کہا کہ ایس پی ایس سی درخواست گزاروں کی قابلیت اور قوانین کے مطابق جائزہ لے۔

دوران سماعت درخواست گزار کے وکیل نے کہا کہ ایس پی ایس سی نے درخواست گزاروں کے کیسز لینے سے انکار کیا ہے۔

سرکاری وکیل نے عدالت کو بتایا کہ 937 میں سے 866 امیدواروں کی سروس فائلز ایس پی ایس سی کو بھیجی ہیں، درخواست گزار ازخود عہدہ یا نوکری چھوڑ چکے ہیں۔

سندھ ہائی کورٹ نے کہا کہ سروس قوانین میں کنٹریکٹ ملازمت کی قانونی حیثیت نہیں ہے،  کنٹریکٹ پر ملازمین کی بھرتی پر اعلیٰ عدالتوں نے بھی تنقید کی ہے، گریڈ 1 سے 15 کے ملازمین کی بھرتی کے لیے شفاف مسابقتی نظام ہونا چاہیے۔

عدالت نے ریمارکس دیے کہ صوبے میں گریڈ 17 کے ہیڈ ماسٹرز کی بھرتیاں کنٹریکٹ پر ہونا حیران کن ہے، ہیڈ ماسٹرز کی پوسٹ پر بھرتیاں مسابقتی امتحان یا ترقی کی بنیاد پر ہونی چاہیے تھیں، ایس پی ایس سی کی موجودگی میں کنٹریکٹ پر بھرتیاں ناقابل فہم ہیں۔