ذات صلة

جمع

وفاقی وزیر چوہدری سالک حسین سے پارٹی رہنماؤں کی اہم ملاقاتیں

مرکزی سینئر نائب صدر پاکستان مسلم لیگ اور وفاقی...

اسحاق ڈار: اسرائیل کے اقدامات ناقابلِ قبول

پاکستان کے وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے کہا ہے کہ اسرائیل کے...

سعودی وزیر خارجہ سے اسحاق ڈار کا رابطہ

پاکستان کے نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے سعودی...

کیا سر پر بار بار لگنے والی چوٹیں دماغی نقصان سے جڑی ہیں؟

حالیہ تحقیق کے مطابق سر پر بار بار چوٹیں...

فریال گوہر اور جمال شاہ نے 30 سال بعد طلاق کی اصل وجہ بتا دی

پاکستانی شوبز کے سینئر اداکار Faryal Gohar اور Jamal Shah نے طلاق کے...

معافی کا مطالبہ یا آئین کی توہین؟

سہیل وڑائچ کے تازہ کالم میں جنرل عاصم منیر کی تعریفوں کے پل باندھے گئے ہیں، جو صحافت سے زیادہ درباری تاریخ نویسی کا رنگ دکھاتے ہیں۔ وہ عمران خان سے معافی مانگنے کا مطالبہ کرتے ہیں، جو دو سال سے بغیر ٹھوس ثبوتوں کے جیل میں ہیں۔ سوال یہ ہے کہ معافی کس بات کی؟ آئین کی پاسداری، عوامی حقوق کی بات یا کرپشن کے خلاف آواز اٹھانے کی؟

وڑائچ نے جنرل منیر کی برسلز تقاریر کو سراہا، لیکن یہ نہیں بتایا کہ اگر وہ جمہوریت پسند ہیں تو عمران خان جیسے عوامی لیڈر قید کیوں ہیں؟ ماضی میں ایوب، ضیاء اور مشرف کے ادوار میں بھی صحافیوں نے آمروں کی حمایت کی، لیکن نتیجہ وہی رہا: قرضوں میں ڈوبا پاکستان اور کمزور آئین۔

معافی کا مطالبہ عمران خان کو جھکانے کی کوشش ہے، لیکن تاریخ گواہ ہے کہ عوام اور آئین کے ساتھ کھڑے لوگ امر رہتے ہیں۔ وڑائچ جیسے صحافیوں کا قلم طاقتور کی خوشنودی کے بجائے مظلوم کی آواز بننا چاہیے۔ تاریخ کی عدالت میں کوئی رعایت نہیں ملتی، اور یہ وہی سبق ہے جو ہر دور میں دہرایا جاتا ہے۔