ذات صلة

جمع

سعودی ریزرو کے آسمان پر جون میں دلکش فلکیاتی مناظر متوقع

سعودی عرب کے امام ترکی بن عبداللہ رائل ریزرو...

دارۃ الملک عبدالعزیز سعودی تاریخ اور ورثے کے تحفظ میں سرگرم

سعودی عرب کا ادارہ دارۃ الملک عبدالعزیز قومی تاریخ...

مسجدالحرام میں ملتزم: عقیدت و روحانیت کا مقدس مقام

مسجدالحرام کے اندر خانۂ کعبہ سے منسوب ایک نہایت...

نیم خان کے ننھے بھتیجے کے انتقال پر مداح غمزدہ

پاکستانی اداکار نیم خان کے ننھے بھتیجے کے انتقال...

گرو رندھاوا کے جم پر فائرنگ، دہلی پولیس تحقیقات میں مصروف

بھارتی گلوکار گرو رندھاوا کے دہلی میں واقع فٹنس...

بانس کے کاغذ سے فن تخلیق کرنے والی سعودی آرٹسٹ کا منفرد سفر

سعودی فنکارہ جمانہ تلیتی نے بانس سے بنے کاغذ کو تخلیقی اظہار کا ذریعہ بنا کر ایک نایاب فن کو زندہ کیا ہے۔ سابقہ تعلیمی شعبے سے وابستہ جمانہ نے کورونا وبا کے دوران قدرتی مواد کے ساتھ کام کا آغاز کیا اور بانس کے کاغذ سے مضبوط اور کارآمد اشیا جیسے ٹوکریاں، ڈبے، چھوٹا فرنیچر اور مجسمے تخلیق کیے۔

ان کا کہنا ہے کہ یہ فن نہ صرف فنکارانہ مہارت کا تقاضا کرتا ہے بلکہ یہ روزمرہ استعمال میں بھی کام آتا ہے، ساتھ ہی ماحولیاتی طور پر بھی محفوظ ہے۔ بانس کے کاغذ سے بنے اشیا ری سائیکل بھی کی جا سکتی ہیں اور پانی سے دھونے کے باوجود خراب نہیں ہوتیں۔

جمانہ نے اس فن پر مکمل عبور حاصل کرنے کے لیے سخت آن لائن کورسز کیے اور وہ سعودی عرب کی پہلی آرٹسٹ ہیں جنہوں نے اس مخصوص فن میں مہارت حاصل کی۔ حال ہی میں جدہ میں ان کی نمائش کو خوب پذیرائی ملی۔ ان کا خواب ہے کہ وہ مستقبل میں ورکشاپس کے ذریعے یہ فن دوسروں تک منتقل کریں۔

وہ کہتی ہیں کہ سعودی عرب میں ثقافتی ترقی اور ہنر کے فروغ کے لیے جاری کوششوں کی بدولت اس نایاب فن کا مستقبل روشن ہے۔