رواں سال سعودی عرب میں رمضان کا مہینہ سرد موسم میں آیا ہے، جس کی وجہ سے درجہ حرارت کم اور روزے کا دورانیہ مختصر ہو گیا ہے۔ عرب نیوز کے مطابق ریاض میں درجہ حرارت 8 سے 20 ڈگری سینٹی گریڈ کے درمیان ہے جبکہ ناردرن بارڈرز میں کم سے کم درجہ حرارت 3 ڈگری سینٹی گریڈ ریکارڈ کیا گیا۔
بادلوں اور وقفے وقفے سے ہونے والی بارشوں کی وجہ سے مملکت کے کئی حصوں میں درجہ حرارت مزید کم رہنے کی توقع ہے۔ نیشنل سینٹر آف میٹریولوجی کے مطابق ناردرن ریجن میں موسم سرد رہے گا جبکہ ریاض، قصیم اور مشرقی صوبے میں بھی درجہ حرارت میں کمی متوقع ہے۔ مشرقی ریجن، نجران، جازان، عسیر اور باحہ میں گرج چمک کے ساتھ بارش اور ژالہ باری کا امکان ہے۔
شہریوں کا کہنا ہے کہ سردیوں میں روزے رکھنا آسان ہوتا ہے کیونکہ دن مختصر اور درجہ حرارت کم ہوتا ہے، جس سے بھوک اور پیاس کم لگتی ہے اور تھکاوٹ نہیں ہوتی۔ ریاض میں رہنے والی نفیسہ عثمان نے کہا کہ سرد موسم میں روزے رکھنا آسان ہوتا ہے اور افطار کے بعد بھی بیرونی کام کیے جا سکتے ہیں۔
سعودی شہری ثمر العتیبی نے کہا کہ چھوٹے دنوں اور خوشگوار موسم کی وجہ سے روزہ جلدی کھول لیا جاتا ہے اور شدید گرمی کا سامنا نہیں کرنا پڑتا۔ پاکستانی ٹیکسی ڈرائیور محمد اصغر نے بھی کہا کہ سردیوں میں روزے رکھنا کام کرنے والوں کے لیے آسان ہے اور اس سے رمضان کی روحانیت میں اضافہ ہوتا ہے۔
سیفٹی مینیجر شاہد انور نے کہا کہ آؤٹ ڈور کام کرنے والوں کے لیے یہ ماحول روزے رکھنے میں آسانی فراہم کرتا ہے، اور پرلطف موسم رمضان کی روحانیت کو مزید بڑھاتا ہے۔
