جازان ریجن کے صبیا کے ساحلی علاقے میں واقع جزیرہ عثر صدیوں سے مختلف تہذیبوں کا گواہ رہا ہے۔ تاریخی گاؤں راس الطرفہ، جو جزیرے کے قریب واقع ہے، اسلام کے ابتدائی دور سے تعلق رکھتا ہے اور ماضی میں تجارتی لحاظ سے اہم مرکز رہا۔ یہاں کی بندرگاہ پر ہندوستان چین مصر، شام اور افریقہ سے تجارتی جہاز لنگر انداز ہوتے تھے۔
عثر کی اقتصادی اہمیت میں اضافہ یہاں کی ٹکسال العثری دینار کی وجہ سے ہوا، جس کے کچھ سکے اب مدینہ منورہ قطر اور پیرس کے میوزیم میں محفوظ ہیں۔ جزیرہ آج بھی اپنے قدرتی مناظر، گھنے مینگرو جنگلات اور ساحلی خوبصورتی کی وجہ سے سیاحوں کے لیے پرکشش مقام ہے۔ ٹور گائیڈ عبدہ الجعفری کے مطابق جزیرہ اپنے نیلے سمندر اور تازہ ہوا کے باعث تفریح کے شوقین افراد کے لیے دلکش تجربہ پیش کرتا ہے۔
جزیرہ ’عثر‘: تاریخی تہذیبوں اور قدرتی حسن کا شاہکار
