ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کی شہادت کے بعد ملک میں نئے قائد کے حوالے سے قیاس آرائیاں زور پکڑ گئی ہیں۔ اس تناظر میں بانیٔ انقلاب روح اللہ خمینی کے پوتے حسن خمینی کا نام نمایاں طور پر زیرِ بحث آ رہا ہے۔
حسن خمینی کو نظام کے وفادار مذہبی رہنما کے طور پر دیکھا جاتا ہے، تاہم وہ اصلاحات کے حامی سمجھے جاتے ہیں اور بعض مواقع پر سرکاری پالیسیوں پر تنقید بھی کرتے رہے ہیں۔ 2021ء کے صدارتی انتخابات میں اصلاح پسند امیدواروں کی نااہلی پر انہوں نے گارڈیئن کونسل کے فیصلے پر سوال اٹھایا تھا، جس کے بعد سخت گیر رہنما ابراہیم رئیسی کامیاب ہوئے، جو بعد ازاں 2024ء میں ایک حادثے میں انتقال کر گئے۔
2022ء میں مہیسا امینی کی ہلاکت کے بعد ہونے والے احتجاج پر حسن خمینی نے شفاف تحقیقات کا مطالبہ کیا، تاہم بدامنی اور ریاست مخالف نعروں کی مخالفت بھی کی۔ انہوں نے بعض پُرتشدد عناصر کو شدت پسند تنظیم داعش سے تشبیہ دی اور حکومتی مؤقف کی حمایت میں شریک رہے۔
وہ سابق صدر حسن روحانی کی حکومت کے حامی رہے، جس نے 2015ء میں عالمی طاقتوں سے جوہری معاہدہ کیا تھا، جو بعد میں ڈونلڈ ٹرمپ کے دور میں ختم کر دیا گیا۔ حسن خمینی نے اقتصادی پابندیوں سے پیدا ہونے والی عوامی مشکلات پر بھی کھل کر اظہارِ خیال کیا ہے۔
مذہبی و سیاسی حلقوں میں انہیں نسبتاً معتدل اور روشن خیال اسکالر سمجھا جاتا ہے۔ موسیقی، خواتین کے حقوق اور سماجی آزادیوں سے متعلق ان کے خیالات کو نرم تصور کیا جاتا ہے۔ عربی اور انگریزی زبان پر عبور رکھنے والے حسن خمینی نوجوانی میں کھیلوں کے شوقین رہے، تاہم بعد میں انہوں نے قم میں دینی تعلیم حاصل کی۔
موجودہ حالات میں ان کا نام ممکنہ قیادت کے امیدواروں میں لیا جا رہا ہے، تاہم حتمی فیصلہ ایران کے آئینی اور مذہبی اداروں کے اختیار میں ہوگا
