محکمہ جیل خانہ جات پنجاب نے لاہور ہائی کورٹ میں جمع کرائی گئی ایک تفصیلی رپورٹ میں انکشاف کیا ہے کہ صوبے کی مختلف جیلوں میں قید ہزاروں قیدی منشیات کے استعمال میں ملوث پائے گئے ہیں۔
رپورٹ کے مطابق سال 2025 کے دوران پنجاب کی جیلوں میں مجموعی طور پر 10 ہزار 166 قیدیوں کے منشیات ٹیسٹ کیے گئے، جن میں سے 3 ہزار 873 قیدیوں کے نتائج مثبت آئے جبکہ 6 ہزار 293 قیدیوں کے ٹیسٹ منفی رہے۔
عدالتی احکامات کی روشنی میں جیلوں میں منشیات کے عادی قیدیوں کی نشاندہی کے لیے باقاعدہ اسکریننگ سسٹم نافذ کر دیا گیا ہے۔ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ ہر جیل میں ایسے قیدیوں کے لیے علیحدہ بلاکس قائم کیے گئے ہیں تاکہ ان کی نگرانی اور بحالی کے اقدامات مؤثر انداز میں کیے جا سکیں۔
منشیات کی جیلوں میں اسمگلنگ روکنے کے لیے بھی اہم اقدامات زیر غور ہیں۔ رپورٹ کے مطابق جیلوں کے داخلی راستوں پر باڈی اسکینرز نصب کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے تاکہ غیر قانونی اشیاء کی ترسیل کو روکا جا سکے۔ اس کے علاوہ قیدیوں کی سماجی اور نفسیاتی بحالی کے لیے ہیلتھ اور سوشل ویلفیئر ڈیپارٹمنٹ کو کردار ادا کرنے کی سفارش کی گئی ہے۔
اعداد و شمار کے مطابق پنجاب کی جیلوں میں اس وقت کل قیدیوں کی تعداد 70 ہزار 739 ہے، جن میں سے 72 فیصد قیدیوں کے مقدمات زیر سماعت ہیں۔ روزانہ اوسطاً 7 ہزار 500 قیدی عدالتوں میں پیش کیے جاتے ہیں، جس سے عدالتی اور جیل نظام پر دباؤ کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔
یہ رپورٹ جیلوں میں منشیات کے بڑھتے رجحان اور اصلاحی اقدامات کی ضرورت کو واضح کرتی ہے، جبکہ عدالت کی نگرانی میں اس مسئلے سے نمٹنے کے لیے عملی اقدامات تیز کیے جا رہے ہیں۔
پنجاب کی جیلوں میں 3 ہزار 873 قیدی منشیات استعمال کرنے والے قرار، رپورٹ عدالت میں جمع
