ایک امریکی جریدے کی رپورٹ میں دعوی کیا گیا ہے کہ افغانستان کے فوجداری نظام میں کی جانے والی حالیہ تبدیلیوں نے سخت سزاؤں اور دباؤ کو قانونی دائرے میں لا کھڑا کیا ہے، جس پر انسانی حقوق کے حلقوں نے گہری تشویش ظاہر کی ہے۔
محايل عسیر دسترخوان کا لذت بخش امتزاج – شہد اور حنیذ
تازه ترین February 2, 2026
رپورٹ کے مطابق ماہرین کا کہنا ہے کہ ان قوانین کے بعد خواتین اور ملک چھوڑنے پر مجبور افراد کے لیے خطرات بڑھ سکتے ہیں، جبکہ ناقدین اسے بنیادی انسانی حقوق کے اصولوں سے متصادم قرار دے رہے ہیں۔
دوسری جانب بین الاقوامی تجزیاتی اداروں کی حالیہ رپورٹس میں بھی افغانستان کی صورتحال پر سوالات اٹھائے گئے ہیں اور خبردار کیا گیا ہے کہ خطے میں سرگرم شدت پسند گروہوں کی موجودگی عالمی سیکیورٹی کے لیے چیلنج بن سکتی ہے۔
نئی افغان قانونی ترامیم پر عالمی تشویش میں اضافہ
