ذات صلة

جمع

سعودی ریزرو کے آسمان پر جون میں دلکش فلکیاتی مناظر متوقع

سعودی عرب کے امام ترکی بن عبداللہ رائل ریزرو...

دارۃ الملک عبدالعزیز سعودی تاریخ اور ورثے کے تحفظ میں سرگرم

سعودی عرب کا ادارہ دارۃ الملک عبدالعزیز قومی تاریخ...

مسجدالحرام میں ملتزم: عقیدت و روحانیت کا مقدس مقام

مسجدالحرام کے اندر خانۂ کعبہ سے منسوب ایک نہایت...

نیم خان کے ننھے بھتیجے کے انتقال پر مداح غمزدہ

پاکستانی اداکار نیم خان کے ننھے بھتیجے کے انتقال...

گرو رندھاوا کے جم پر فائرنگ، دہلی پولیس تحقیقات میں مصروف

بھارتی گلوکار گرو رندھاوا کے دہلی میں واقع فٹنس...

ریاض بن گیا خلیجی امیروں اور عہدیداروں کے لیے انخلا کا مرکزی مرکز

علاقائی کشیدگی کے بڑھنے کے ساتھ، ریاض خلیجی ممالک سے روانگی کے خواہشمند امیر افراد اور سینیئر ایگزیکٹیوز کے لیے ایک اہم انخلا مرکز بن گیا ہے۔ امریکی ڈیجیٹل ادارے سیمیفور کی رپورٹ کے مطابق کنگ خالد انٹرنیشنل ایئرپورٹ خطے کے چند بڑے فعال ہوائی اڈوں میں شامل ہے، جبکہ دبئی، ابو ظہبی، قطر اور بحرین میں ایرانی میزائل اور ڈرون حملوں کے باعث دیگر فضائی راستے محدود ہو گئے ہیں۔

ذرائع کے مطابق بعض افراد زمینی راستے سے ریاض پہنچ کر وہاں سے نجی یا چارٹرڈ پروازوں کے ذریعے خطے سے نکل رہے ہیں۔ نجی سکیورٹی کمپنیاں ایس یو ویز اور دیگر ٹرانسپورٹ کا انتظام کر کے گاہکوں کو ریاض منتقل کر رہی ہیں۔ عالمی مالیاتی اداروں کے سینئر عہدیدار اور کاروباری افراد اس انخلا میں شامل ہیں، جس کے باعث چارٹرڈ جیٹس کے کرایے 3 لاکھ 50 ہزار ڈالر تک پہنچ چکے ہیں۔

سیمیفور کے مطابق عمان کا متبادل راستہ ایرانی حملوں کے بعد غیر قابلِ عمل ہو گیا، جس کے بعد ریاض سب سے زیادہ قابلِ رسائی ٹرانزٹ پوائنٹ بن گیا ہے۔ سعودی عرب کی نسبتاً لچکدار ویزا پالیسی اور فضائی حدود کو فعال رکھنا ریاض کو اس عارضی مگر اہم کردار میں مدد دے رہا ہے۔ روزمرہ زندگی ریاض میں بڑی حد تک معمول کے مطابق جاری ہے، جبکہ دیگر خلیجی شہروں کو براہِ راست حملوں کا سامنا کرنا پڑا ہے۔