اقوام متحدہ میں ایرانی مشن نے واضح کیا ہے کہ ایران مذاکرات کا راستہ بند نہیں کرنا چاہتا، لیکن کسی بھی دباؤ یا جارحیت کی صورت میں بھرپور دفاع کے لیے بھی تیار ہے۔
سوشل میڈیا پر جاری بیان میں کہا گیا کہ ایران باہمی احترام اور مشترکہ مفادات کی بنیاد پر بات چیت کر سکتا ہے، تاہم اگر اسے دھمکایا گیا تو ایسا ردعمل دیا جائے گا جو ماضی سے مختلف اور زیادہ سخت ہوگا۔
یہ مؤقف ایسے وقت سامنے آیا ہے جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کو خبردار کیا ہے کہ معاہدہ نہ ہونے کی صورت میں سخت فوجی کارروائی ہو سکتی ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ امریکی بحری طاقت خطے میں موجود ہے اور ضرورت پڑنے پر فوری کارروائی کی صلاحیت رکھتی ہے۔
امریکی صدر نے ایران پر زور دیا کہ وہ جوہری ہتھیاروں سے متعلق ایک منصفانہ معاہدے کے لیے مذاکرات شروع کرے، جبکہ ایران کا کہنا ہے کہ دھمکیوں کے ماحول میں بات چیت ممکن نہیں۔ صورتحال کے باعث خطے میں کشیدگی بدستور برقرار ہے۔
ایران کا دوٹوک مؤقف: بات چیت بھی، جواب بھی
