ایران نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی فوجی کارروائی کی وارننگ کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ کسی بھی حملے کی صورت میں بھر پور اور فوری رد عمل دیا جائے گا۔
ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی کے مطابق مسلح افواج زمین، فضا اور سمندر ہر محاذ پر کسی بھی جارحیت کا جواب دینے کے لیے مکمل تیار ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ماضی کے حملوں سے ایران نے سبق سیکھا ہے اور اب پہلے سے زیادہ مؤثر جواب دینے کی صلاحیت رکھتا ہے۔
یہ بیان ایسے وقت آیا ہے جب ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ امریکا نے خطے میں امریکا نے خطے میں بڑی بحری طاقت کے طاقت تعینات کر دی ہے اور ایران نے اگر جوہری مع ر جوہری معاہدے پر پیش رفت نہ کی تو سخت کارروائی ہو سکتی ہے۔ امریکا ایران پر مذاکرات اور جوہری سرگرمیاں محدود کرنے کا دباؤ ڈال رہا ہے۔
ایران نے واضح کیا ہے کہ دھمکی یا دباؤ کے ماحول میں بات چیت ممکن نہیں، اور نہ ہی حالیہ دنوں میں امریکا کی جانب سے باضابطہ مذاکرات کی کوئی درخواست آئی ہے۔
دوسری طرف سعودی عرب اور یو اے ای نے اپنی فضائی حدود کو کسی ممکنہ حملے کے لیے استعمال نہ ہونے دینے کا اشارہ دیا ہے، جبکہ خطے کے دیگر ممالک کشیدگی کم کرنے کے لیے لیے سفارتی کوششیں تیز کر رہے ہیں۔
ایران کا امریکا کو دوٹوک پیغام: دھمکیوں پر مذاکرات نہیں
