ڈومیسٹک وائلنس بل 2025 کو عورتوں اور بچوں کے تحفظ کے نام پر منظور کیا گیا ہے، تاہم اس قانون پر مختلف حلقوں کی جانب سے شدید تحفظات سامنے آ رہے ہیں۔ ناقدین کے مطابق یہ بل گھریلو معاملات کو فوجداری دفعات میں بدل کر خاندانی نظام کو کمزور کر سکتا ہے۔ نفسیاتی، جذباتی اور معاشی دباؤ جیسی مبہم اصطلاحات کے باعث عام گھریلو اختلافات بھی قانونی کارروائی کی نذر ہونے کا خدشہ ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ قانون سازی میں توازن، مصالحتی نظام اور دونوں فریقین کے تحفظ کو یقینی بنانا ناگزیر ہے، تاکہ انصاف کے ساتھ ساتھ خاندانی استحکام بھی برقرار رہ سکے۔
