بھارت کی ریاست مدھیہ پردیش میں پولیس نے دو بہنوں اور ان کے ایک ساتھی کو مختلف سنگین الزامات کے تحت حراست میں لے لیا ہے، جبکہ مزید تین ملزمان کی تلاش جاری ہے۔ حکام کے مطابق ملزمان پر غیر قانونی سرگرمیوں، جنسی جرائم اور مبینہ طور پر منظم نیٹ ورک چلانے کے الزامات عائد کیے گئے ہیں۔
بھارتی میڈیا رپورٹس کے مطابق دونوں خواتین نے حال ہی میں اپنی جنس تبدیل کروائی تھی اور نئی شناخت کے ساتھ رہائش اختیار کر رکھی تھی۔ تفتیشی اداروں کا دعویٰ ہے کہ ملزمان کے مالی وسائل مشتبہ ذرائع سے حاصل کیے گئے۔
پولیس کارروائی اس وقت شروع ہوئی جب دو خواتین نے بھوپال کے باغ سیونیا تھانے میں علیحدہ علیحدہ درخواستیں جمع کرائیں۔ درخواست گزاروں کے مطابق انہیں ملازمت اور بہتر زندگی کا جھانسہ دے کر مختلف تقریبات اور مقامات پر لے جایا گیا، جہاں مبینہ طور پر انہیں نشہ آور اشیاء دی گئیں اور زیادتی کا نشانہ بنایا گیا۔
ایک شکایت میں الزام عائد کیا گیا کہ متاثرہ خاتون کو احمد آباد لے جا کر جرم کا نشانہ بنایا گیا، جبکہ دوسری درخواست میں چندن یادیو نامی شخص پر سنگین الزامات اور دھمکیاں دینے کا ذکر کیا گیا ہے۔
پولیس نے ملزمان کے موبائل فون قبضے میں لے کر تفتیش کا آغاز کر دیا ہے، جبکہ حکام کا کہنا ہے کہ شبہ ہے یہ معاملہ مختلف ریاستوں تک پھیلا ہوا ہو سکتا ہے اور مزید گرفتاریاں بھی متوقع ہیں۔
