ایران نے اقوامِ متحدہ کے سربراہ کو لکھے گئے خط میں کہا ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے حالیہ بیانات سے خطے میں فوجی تصادم کا حقیقی خطرہ پیدا ہو گیا ہے۔
خط میں ایرانی حکام نے واضح کیا کہ ایران کشیدگی یا جنگ کا خواہاں نہیں اور نہ ہی کسی تنازع کی ابتدا کرے گا۔ یہ خط ایسے وقت بھیجا گیا ہے جب اطلاعات ہیں کہ امریکا ایران کے خلاف محدود فوجی کارروائی پر غور کر رہا ہے۔
ایران کے مطابق ممکنہ حملوں میں چند فوجی یا سرکاری تنصیبات کو نشانہ بنایا جا سکتا ہے تاکہ ایران کو جوہری معاہدے پر مجبور کیا جا سکے۔ خط میں خبردار کیا گیا ہے کہ اگر ایران پر حملہ ہوا تو وہ بھرپور اور مناسب جواب دے گا اور دشمن کے اڈوں، سہولیات اور اثاثوں کو نشانہ بنانے کا حق محفوظ رکھتا ہے۔
