یمن کے جزیرے سقطری میں سعودی عرب کی مداخلت کے بعد بجلی کی سپلائی دوبارہ بحال ہو گئی ہے، جس سے جزیرے کے روزمرہ امور معمول پر آ گئے ہیں۔ اس سے قبل بجلی کی بندش کے باعث جنرل ہسپتال، یونیورسٹی، ٹیکنیکل انسٹیٹیوٹ اور دیگر اہم ادارے متاثر ہوئے تھے۔
عرب نیوز کے مطابق بحران اس وقت پیدا ہوا جب سابق آپریٹنگ کمپنی نے سسٹمز پر پاس ورڈز اور شٹ ڈاؤن ٹائمرز لگا دیے تھے، جس کی وجہ سے مقامی ٹیمیں اسٹیشنز کو ری اسٹارٹ نہیں کر پا رہی تھیں۔ سعودی پروگرام برائے ترقی و تعمیر نو یمن نے مقامی حکومت کی درخواست پر انجینیئرز بھیجے اور جنریٹرز کو مرحلہ وار فعال کر کے گرڈ پر دباؤ کم کیا، جس سے بیشتر علاقوں میں بجلی بحال ہو گئی۔
بجلی کی واپسی سے پانی کے سسٹمز، ٹیلی کمیونیکیشن، تجارتی سرگرمیاں اور طبی سہولیات تیزی سے معمول پر آگئیں۔ جزیرے کے سب سے بڑے طبی مرکز جنرل ہسپتال میں بھی علاج کی سہولیات دوبارہ فعال ہو گئیں اور ایندھن و طبی سامان کی فراہمی بہتر ہوئی، جس سے مریضوں کو دیگر علاقوں کا سفر کرنے کی ضرورت ختم ہو گئی۔
سقطری یونیورسٹی، ٹیکنیکل انسٹیٹیوٹ اور دیگر تعلیمی اداروں میں کلاسیں بحال ہو گئی ہیں، اور مبصرین کا کہنا ہے کہ پائیدار تکنیکی اور آپریشنل سپورٹ سے ریجن میں بجلی کے بحران کے دوبارہ آنے کے امکانات کم ہیں۔
