ذات صلة

جمع

وفاقی وزیر چوہدری سالک حسین سے پارٹی رہنماؤں کی اہم ملاقاتیں

مرکزی سینئر نائب صدر پاکستان مسلم لیگ اور وفاقی...

اسحاق ڈار: اسرائیل کے اقدامات ناقابلِ قبول

پاکستان کے وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے کہا ہے کہ اسرائیل کے...

سعودی وزیر خارجہ سے اسحاق ڈار کا رابطہ

پاکستان کے نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے سعودی...

کیا سر پر بار بار لگنے والی چوٹیں دماغی نقصان سے جڑی ہیں؟

حالیہ تحقیق کے مطابق سر پر بار بار چوٹیں...

فریال گوہر اور جمال شاہ نے 30 سال بعد طلاق کی اصل وجہ بتا دی

پاکستانی شوبز کے سینئر اداکار Faryal Gohar اور Jamal Shah نے طلاق کے...

امریکی شہری اسرائیلی تشدد کا نشانہ – کیا انصاف ممکن ہوا؟

2022ء کے بعد سے اسرائیلی حملوں میں متعدد امریکی شہری جاں بحق ہو چکے ہیں، مگر امریکا کی جانب سے خاطرخواہ کارروائی دیکھنے کو نہیں ملی۔

حال ہی میں سیف اللہ مسلط، ایک امریکی شہری، کو مغربی کنارے میں اسرائیلی آبادکاروں نے تشدد کا نشانہ بنایا، جس کے بعد اُن کے اہل خانہ نے امریکا سے مطالبہ کیا کہ وہ خود اس واقعے کی تحقیقات کرے۔ اگرچہ امریکی صدر نے اسرائیل سے انصاف کا مطالبہ کیا، لیکن اس پر کوئی واضح پیشرفت نظر نہیں آئی۔

اسی طرح، 78 سالہ فلسطینی نژاد امریکی عمر اسد کی موت اسرائیلی فوج کے ہاتھوں ہوئی، جب انہیں ایک چیک پوسٹ پر حراست کے دوران مبینہ طور پر چھوڑ دیا گیا۔ ان کے اہل خانہ اور قانون سازوں نے امریکا سے براہ راست تحقیقات کا مطالبہ کیا، لیکن یہ مطالبہ عملی نہ ہو سکا۔

2024ء میں ایک اور امریکی امدادی کارکن جیکب فلیکنجر اسرائیلی فضائی حملے میں مارے گئے۔ اسرائیل نے واقعے کو “حادثہ” قرار دیا اور چند افسران کو برخاست کیا، مگر کسی پر فوجداری مقدمہ قائم نہ کیا گیا۔

ان تمام واقعات سے سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا امریکا واقعی اپنے شہریوں کو انصاف دلا پاتا ہے جب مجرم اسرائیلی فوج یا آبادکار ہوں؟