سابق چیئرمین پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی نجم سیٹھی نے ایک لائیو ٹی وی پروگرام میں بھارتی صحافی راجدیپ سردیسائی کے مؤقف کو کمال مہارت سے رد کیا۔
گفتگو کے دوران نجم سیٹھی نے پاکستان کے ٹی 20 ورلڈ کپ میں بھارت کے خلاف میچ کے 15 روزہ بائیکاٹ کے فیصلے کا بھرپور دفاع کیا۔ انہوں نے کہا کہ یہ قدم جذباتی نہیں بلکہ حکمت عملی پر مبنی تھا، جس کا مقصد آئی سی سی اور بنگلہ دیش کے ساتھ مذاکرات کے لیے گنجائش پیدا کرنا تھا۔
نجم سیٹھی نے مزید بتایا کہ پاکستان نے قانونی پہلوؤں کا مکمل جائزہ لیا اور ملکی و غیر ملکی ماہر وکلا سے مشاورت کی۔ انہوں نے یہ بھی واضح کیا کہ پاکستان مالی طور پر آئی سی سی پر انحصار نہیں کرتا کیونکہ پی ایس ایل نے نمایاں ترقی کر کے زیادہ آمدن پیدا کی ہے۔
را جدیپ سردیسائی نے بھارت کی کرکٹ کی سپر پاور ہونے اور پاکستانی کرکٹ پر سیاست کے اثرات کے حوالے سے سوالات کیے، جس پر نجم سیٹھی نے جواب دیا کہ آئی سی سی کو آزاد اور منصفانہ ادارہ ہونا چاہیے اور بھارت اور پاکستان دونوں پر یکساں اصول لاگو ہونے چاہئیں۔
انہوں نے بھارت پر الزام لگایا کہ بھارتی کھلاڑی بیرون ملک لیگز میں حصہ نہیں لے سکتے، جبکہ پاکستانی کھلاڑی عالمی سطح کی لیگز میں کھیلتے ہیں۔ نجم سیٹھی نے دوطرفہ سیریز سے گریز اور بنگلہ دیش کے سیاسی تعلقات کا حوالہ دیتے ہوئے اپنے موقف کی وضاحت کی۔
پروگرام کے اختتام پر راجدیپ سردیسائی نے نجم سیٹھی کی صاف گوئی کو سراہا، مگر یہ سوال برقرار رہا کہ کرکٹ کو سیاست سے الگ کیا جا سکتا ہے یا نہیں۔
نجم سیٹھی نے لائیو ٹی وی پر بھارتی صحافی کی بولتی بند کردی
