پاکستان کا ڈیجیٹل سفر مواقع اور چیلنجز دونوں سے بھرپور ہے۔ بدقسمتی سے، ہمیں کئی اہم مسائل کا سامنا ہے جن میں کمزور پالیسی پر عملدرآمد، سرکاری اداروں کے درمیان ناقص ہم آہنگی، دیہی علاقوں میں انٹرنیٹ کی کمی، اور بڑھتے ہوئے سائبر سیکیورٹی خطرات شامل ہیں۔ ہمارے ہاں عوام بالخصوص دور دراز علاقوں میں ڈیجیٹل تعلیم کا فقدان ہے، جبکہ مؤثر ڈیٹا پرائیویسی قوانین کا نہ ہونا بھی ایک سنجیدہ مسئلہ ہے۔
تاہم، اس کے باوجود پاکستان میں بے پناہ صلاحیت موجود ہے۔ ہماری 65 فیصد آبادی نوجوانوں پر مشتمل ہے، جو ایک قیمتی ڈیجیٹل اثاثہ ثابت ہو سکتی ہے۔ پاکستانی فری لانسنگ اور اسٹارٹ اپ انڈسٹری تیزی سے ترقی کر رہی ہے۔ نادرا، راست، اور صحت کارڈ جیسے منصوبے اس بات کا ثبوت ہیں کہ اگر نیت اور حکمت عملی ہو تو ای-گورننس کے ذریعے عوام کو بہتر سہولیات دی جا سکتی ہیں۔
ہمیں فوری طور پر دیہی علاقوں میں ڈیجیٹل کنیکٹیویٹی، نوجوانوں اور خواتین کی ڈیجیٹل تربیت، اور نجی و سرکاری شعبوں میں شراکت داری کو فروغ دینا ہوگا۔ ہمیں اپنے ڈیٹا قوانین کو مضبوط بنانا ہوگا اور صرف ڈیجیٹل ٹیکنالوجی کے صارف بننے کے بجائے اُن کے خالق بننے کی جانب بڑھنا ہوگا۔
آئیے! مل کر ایک بہتر، بااختیار اور سمارٹ “ڈیجیٹل پاکستان” کی تعمیر کریں — جہاں ہر شہری ڈیجیٹل ترقی کا حصہ ہو
