سعودی عرب میں مہر اور شادی کی بڑھتی ہوئی لاگت نوجوان جوڑوں کے لیے اہم چیلنج بن گئی ہے۔ پہلے مہر ایک علامتِ عزت اور ذمہ داری تھی، لیکن آج اسے اکثر مہنگی تقریبات، سونے کے زیورات اور دیگر اخراجات کے لیے استعمال کیا جاتا ہے، جس سے مالی دباؤ بڑھ گیا ہے۔
ماہرین اور مذہبی رہنما شادی کی اصل روح پر توجہ دینے کی تاکید کر رہے ہیں، تاکہ شادی کا مقصد محبت اور مشترکہ ذمہ داریوں پر مبنی ہو نہ کہ نمائش اور سماجی توقعات پر۔ کچھ حکومت کے اقدامات، جیسے بغیر سود کے 60 ہزار ریال تک قرض کی سہولت، مالی دباؤ کم کرنے میں مددگار ثابت ہو رہے ہیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ شادی کی مضبوط بنیاد تعاون، باہمی احترام اور ذمہ داری پر ہونی چاہیے تاکہ مہر اور دیگر ظاہری چیزیں ثانوی حیثیت رکھیں اور جوڑوں کی زندگی خوشحال اور مستحکم ہو۔
