سعودی ولی عہد و وزیراعظم شہزادہ محمد بن سلمان سے یوکرین کے صدر ولادیمیر زیلنسکی نے جدہ میں ملاقات کی، جس میں سعودی عرب اور یوکرین کے تعلقات، خطے کی سلامتی، مشرق وسطی میں جاری فوجی کشیدگی اور یوکرینی بحران پر بات چیت ہوئی۔
ملاقات میں سعودی وزیر مملکت و قومی سلامتی کے مشیر ڈاکٹر مساعد بن محمد العبیان، وزیر ماحولیات، پانی و زراعت عبد الرحمن الفضلی، جنرل انٹیلی جنس ڈائریکٹوریٹ کے سربراہ خالد بن علی الحمیدان اور یوکرین میں سعودی سفیر محمد البرکہ بھی موجود تھے۔
عرب نیوز کے مطابق زیلنسکی نے اچانک سعودی عرب کا دورہ کیا، جب خلیجی ریاستوں نے یوکرینی فضائی دفاعی ٹیکنالوجی میں دلچسپی ظاہر کی۔ صدر زیلنسکی نے بتایا کہ 28 فروری کے بعد سے 200 سے زائد یوکرینی اینٹی ڈرون ماہرین مشرق وسطی میں تعینات کیے گئے ہیں تاکہ ایرانی ڈرون حملوں کا مقابلہ کیا جا سکے۔
یوکرین نے سستی اینٹی ڈرون ٹیکنالوجی کو مہنگے فضائی دفاعی نظام کے متبادل کے طور پر پیش کرنے کی تجویز دی، جو خلیجی ممالک اس وقت ایرانی ڈرونز کو ناکارہ بنانے کے لیے استعمال کر رہے ہیں۔ یاد رہے کہ گزشتہ سال سعودی عرب نے یوکرینی اور روسی وفود کے ساتھ امریکی حکام کے مذاکرات کی میزبانی بھی کی تھی، تاکہ یوکرین پر روسی حملے سے پیدا ہونے والی جنگ کے خاتمے کے لیے اقدامات کیے جا سکیں
