مشرقِ وسطیٰ میں جاری کشیدگی کے بعد امریکا اور ایران کے درمیان ممکنہ مذاکرات کی باتیں سامنے آ رہی ہیں، مگر صورتحال ابھی تک پیچیدہ ہے۔ ایک طرف امریکا مذاکرات کا دعویٰ کر رہا ہے، جبکہ ایران ان بیانات کو مسترد کرتے ہوئے سخت مؤقف اپنائے ہوئے ہے۔
سفارتی ذرائع کے مطابق پاکستان، ترکیہ اور مصر پسِ پردہ رابطوں میں کردار ادا کر رہے ہیں، تاہم دونوں ممالک کے مطالبات میں واضح فرق کے باعث فوری پیش رفت مشکل دکھائی دیتی ہے۔ حالیہ حملوں کے بعد ایران نے اپنی شرائط مزید سخت کر دی ہیں، جن میں سیکیورٹی ضمانتیں، پابندیوں میں نرمی اور نقصانات کا ازالہ شامل ہے۔
آبنائے ہرمز پر ایران کا اثر و رسوخ اس کے لیے ایک اہم طاقت بن چکا ہے، کیونکہ یہاں سے عالمی تیل کی بڑی مقدار گزرتی ہے۔ اگرچہ امریکا ایران کی فوجی صلاحیت کو کمزور قرار دے رہا ہے، لیکن ایران نے جوابی کارروائیوں سے اپنی موجودگی ثابت کی ہے۔
ماہرین کے مطابق ایران بظاہر دباؤ میں ہے، مگر اس کے پاس اب بھی اہم اسٹریٹجک کارڈز موجود ہیں، جس کی وجہ سے وہ مذاکرات میں مکمل کمزور پوزیشن میں نہیں بلکہ محتاط اور سخت حکمتِ عملی کے ساتھ آگے بڑھ رہا ہے۔
