ایرانی رہنما علی لاریجانی کی ہلاکت نے مشرقِ وسطیٰ کی صورتحال کو غیر یقینی بنا دیا ہے۔ انہیں ایک ایسی اہم شخصیت سمجھا جاتا تھا جو فوج، سیاسی قیادت اور مذہبی نظام کے درمیان مضبوط رابطہ قائم رکھتے تھے۔
ماہرین کے مطابق ان کے جانے سے ایران میں پاور ویکیوم پیدا ہو سکتا ہے، جس سے اندرونی اختلافات اور فیصلہ سازی میں سست روی کا خدشہ ہے۔ خاص طور پر جب مجتبیٰ خامنہ ای منظرِ عام پر کم دکھائی دیتے ہیں، تو قیادت کا خلا مزید نمایاں ہو سکتا ہے۔
لاریجانی ایران کے جوہری پروگرام اور خارجہ پالیسی میں بھی کلیدی کردار ادا کر رہے تھے، اس لیے ان کی عدم موجودگی خطے میں کشیدگی بڑھا سکتی ہے اور ایران کے اسٹریٹجک فیصلوں پر اثر انداز ہو سکتی ہے۔
