قومی ٹیم کے سابق اسپنر ثقلین مشتاق نے شاداب خان اور محمد نواز کا دفاع کرتے ہوئے کہا ہے کہ ٹی20 ورلڈ کپ میں دونوں کھلاڑیوں کو مؤثر انداز میں استعمال نہیں کیا گیا۔
پاکستان نے سپر ایٹ مرحلے میں سری لنکا قومی کرکٹ ٹیم کے خلاف میچ جیتا، تاہم مطلوبہ مارجن حاصل نہ کرنے کے باعث سیمی فائنل کی دوڑ سے باہر ہو گیا۔ اس میچ میں نیٹ رن ریٹ بہتر بنانے کے لیے سری لنکا کو 147 رنز تک محدود کرنا ضروری تھا، لیکن ہدف کے قریب پہنچ جانے سے پاکستان ٹورنامنٹ سے باہر ہو گیا۔
میچ کے دوران شاداب خان کے مہنگے اوورز پر تنقید سامنے آئی، تاہم ثقلین مشتاق کا کہنا تھا کہ شکست کی ذمہ داری کسی ایک کھلاڑی پر ڈالنا درست نہیں۔ ان کے مطابق آل راؤنڈر مختلف نوعیت کے ہوتے ہیں اور ان کی کارکردگی کا دارومدار اس بات پر ہے کہ انہیں کس حکمتِ عملی کے تحت استعمال کیا جائے۔
انہوں نے مثال دیتے ہوئے مچل سینٹنر اور اکشر پٹیل کا حوالہ دیا اور کہا کہ بین الاقوامی سطح پر بھی آل راؤنڈرز کو مخصوص کردار دیے جاتے ہیں۔
ثقلین نے ہیڈ کوچ مائیک ہیسن پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ شاداب اور نواز سے بیک وقت بیٹنگ اور بولنگ میں ضرورت سے زیادہ توقعات رکھی گئیں، جبکہ بہتر حکمتِ عملی اپنائی جاتی تو نتائج مختلف ہو سکتے تھے۔
اعداد و شمار کے مطابق شاداب خان نے ایونٹ میں 6 میچز میں 5 وکٹیں حاصل کیں اور بیٹنگ میں 118 رنز بنائے، تاہم مجموعی کارکردگی توقعات پر پوری نہ اتر سکی۔
