علاقائی کشیدگی کے بڑھنے کے ساتھ، ریاض خلیجی ممالک سے روانگی کے خواہشمند امیر افراد اور سینیئر ایگزیکٹیوز کے لیے ایک اہم انخلا مرکز بن گیا ہے۔ امریکی ڈیجیٹل ادارے سیمیفور کی رپورٹ کے مطابق کنگ خالد انٹرنیشنل ایئرپورٹ خطے کے چند بڑے فعال ہوائی اڈوں میں شامل ہے، جبکہ دبئی، ابو ظہبی، قطر اور بحرین میں ایرانی میزائل اور ڈرون حملوں کے باعث دیگر فضائی راستے محدود ہو گئے ہیں۔
ذرائع کے مطابق بعض افراد زمینی راستے سے ریاض پہنچ کر وہاں سے نجی یا چارٹرڈ پروازوں کے ذریعے خطے سے نکل رہے ہیں۔ نجی سکیورٹی کمپنیاں ایس یو ویز اور دیگر ٹرانسپورٹ کا انتظام کر کے گاہکوں کو ریاض منتقل کر رہی ہیں۔ عالمی مالیاتی اداروں کے سینئر عہدیدار اور کاروباری افراد اس انخلا میں شامل ہیں، جس کے باعث چارٹرڈ جیٹس کے کرایے 3 لاکھ 50 ہزار ڈالر تک پہنچ چکے ہیں۔
سیمیفور کے مطابق عمان کا متبادل راستہ ایرانی حملوں کے بعد غیر قابلِ عمل ہو گیا، جس کے بعد ریاض سب سے زیادہ قابلِ رسائی ٹرانزٹ پوائنٹ بن گیا ہے۔ سعودی عرب کی نسبتاً لچکدار ویزا پالیسی اور فضائی حدود کو فعال رکھنا ریاض کو اس عارضی مگر اہم کردار میں مدد دے رہا ہے۔ روزمرہ زندگی ریاض میں بڑی حد تک معمول کے مطابق جاری ہے، جبکہ دیگر خلیجی شہروں کو براہِ راست حملوں کا سامنا کرنا پڑا ہے۔
