اقوام متحدہ میں سعودی عرب کے سفیر عبدالعزیز الواصل نے کہا ہے کہ ملک کی قومی سلامتی کو کسی بھی طرح کے خطرے میں ڈالنا سرخ لکیر ہے اور اس سے نمٹنے کے لیے سعودی عرب مکمل اقدامات کرے گا۔ انہوں نے یمن کی صورتحال کا جائزہ لیتے ہوئے بتایا کہ جنوب میں مسائل کے سماجی و تاریخی پہلو ہیں جنہیں صرف بات چیت کے ذریعے حل کیا جا سکتا ہے۔
عبد العزيز الواصل نے دو دسمبر کی یکطرفہ فوجی کارروائی پر افسوس ظاہر کیا اور کہا کہ یہ یمن کی قانونی حکومت کے اتحاد کے اصولوں کے خلاف تھی اور غیر ضروری کشیدگی پیدا کی۔ سعودی عرب نے صورتحال پر قابو پانے کے لیے صدارتی قیادت کونسل اور یمنی حکومت کے ساتھ تعاون کرتے ہوئے فوجی دستہ بھیجا تاکہ جنوبی عبوری کونسل کی فورسز اپنے سابقہ مقامات پر واپس جائیں۔
سفیر نے 23 دسمبر کو مسقط میں قیدیوں کے تبادلے کے معاہدے کو سراہا اور عمان کی ثالثی کی کوششوں کی تعریف کی۔ انہوں نے یمنی صدر رشاد العلیمی کی تجویز کردہ ریاض میں جامع کانفرنس کے انعقاد کا خیر مقدم کیا اور تمام فریقین پر زور دیا کہ وہ مذاکرات میں فعال حصہ لیں تاکہ جنوب یمن کے مسائل کا دیرپا اور منصفانہ حل نکالا جا سکے۔
سعودی سفیر: قومی سلامتی کو خطرہ ’ریڈ لائن‘ ہے اور اس کا بھرپور جواب دیا جائے گا
