سہیل وڑائچ کے تازہ کالم میں جنرل عاصم منیر کی تعریفوں کے پل باندھے گئے ہیں، جو صحافت سے زیادہ درباری تاریخ نویسی کا رنگ دکھاتے ہیں۔ وہ عمران خان سے معافی مانگنے کا مطالبہ کرتے ہیں، جو دو سال سے بغیر ٹھوس ثبوتوں کے جیل میں ہیں۔ سوال یہ ہے کہ معافی کس بات کی؟ آئین کی پاسداری، عوامی حقوق کی بات یا کرپشن کے خلاف آواز اٹھانے کی؟
وڑائچ نے جنرل منیر کی برسلز تقاریر کو سراہا، لیکن یہ نہیں بتایا کہ اگر وہ جمہوریت پسند ہیں تو عمران خان جیسے عوامی لیڈر قید کیوں ہیں؟ ماضی میں ایوب، ضیاء اور مشرف کے ادوار میں بھی صحافیوں نے آمروں کی حمایت کی، لیکن نتیجہ وہی رہا: قرضوں میں ڈوبا پاکستان اور کمزور آئین۔
معافی کا مطالبہ عمران خان کو جھکانے کی کوشش ہے، لیکن تاریخ گواہ ہے کہ عوام اور آئین کے ساتھ کھڑے لوگ امر رہتے ہیں۔ وڑائچ جیسے صحافیوں کا قلم طاقتور کی خوشنودی کے بجائے مظلوم کی آواز بننا چاہیے۔ تاریخ کی عدالت میں کوئی رعایت نہیں ملتی، اور یہ وہی سبق ہے جو ہر دور میں دہرایا جاتا ہے۔
