ذات صلة

جمع

جدہ اسلامک پورٹ کی تاریخی نایاب تصاویر کی نمائش

کنگ عبدالعزیز پبلک لائبریری میں جدہ اسلامک پورٹ کی...

نجران میں اونٹوں کی تربیت اور ریسنگ کی ثقافتی روایت

نجران میں اونٹوں کو مقامی ثقافت اور ورثے میں...

گلوکار جوبین نوٹیال کی مبینہ خفیہ شادی کی خبریں

بھارتی پلے بیک سنگر جوبین نوٹیال سے متعلق بھارتی...

فضا علی کی ذاتی زندگی اور حق مہر سے متعلق انکشافات

معروف اداکارہ اور میزبان فضا علی نے ایک انٹرویو...

معافی کا مطالبہ یا آئین کی توہین؟

سہیل وڑائچ کے تازہ کالم میں جنرل عاصم منیر کی تعریفوں کے پل باندھے گئے ہیں، جو صحافت سے زیادہ درباری تاریخ نویسی کا رنگ دکھاتے ہیں۔ وہ عمران خان سے معافی مانگنے کا مطالبہ کرتے ہیں، جو دو سال سے بغیر ٹھوس ثبوتوں کے جیل میں ہیں۔ سوال یہ ہے کہ معافی کس بات کی؟ آئین کی پاسداری، عوامی حقوق کی بات یا کرپشن کے خلاف آواز اٹھانے کی؟

وڑائچ نے جنرل منیر کی برسلز تقاریر کو سراہا، لیکن یہ نہیں بتایا کہ اگر وہ جمہوریت پسند ہیں تو عمران خان جیسے عوامی لیڈر قید کیوں ہیں؟ ماضی میں ایوب، ضیاء اور مشرف کے ادوار میں بھی صحافیوں نے آمروں کی حمایت کی، لیکن نتیجہ وہی رہا: قرضوں میں ڈوبا پاکستان اور کمزور آئین۔

معافی کا مطالبہ عمران خان کو جھکانے کی کوشش ہے، لیکن تاریخ گواہ ہے کہ عوام اور آئین کے ساتھ کھڑے لوگ امر رہتے ہیں۔ وڑائچ جیسے صحافیوں کا قلم طاقتور کی خوشنودی کے بجائے مظلوم کی آواز بننا چاہیے۔ تاریخ کی عدالت میں کوئی رعایت نہیں ملتی، اور یہ وہی سبق ہے جو ہر دور میں دہرایا جاتا ہے۔