امریکی نیوز چینل سی این این کی رپورٹ کے مطابق سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کے درمیان حالیہ کشیدگی کی بنیاد ممکنہ طور پر غلط اطلاعات ہیں جو ابو ظہبی کو سعودی ولی عہد کے نومبر کے واشنگٹن دورے کے حوالے سے دی گئیں۔ سعودی عرب کو خدشہ تھا کہ امارات نے اپنی حمایت یافتہ علیحدگی پسند فورسز کو سعودی سرحد کے قریب متحرک کیا جبکہ حقیقت میں سعودی ولی عہد نے امریکا سے ابو ظہبی پر پابندیاں لگانے کی درخواست نہیں کی تھی۔
تازه ترین January 6, 2026
رپورٹ کے مطابق ابو ظہبی نے سعودی موقف کی حمایت کی اور علاقے میں امن و سلامتی کے لیے عزم ظاہر کیا۔ سعودی عرب نے زور دیا کہ جنوبی یمن کے معاملے میں صرف مذاکرات اور فریقین کی رضامندی سے حل ممکن ہے، جبکہ غلط معلومات پھیلانے والے ایس ٹی سی کے صدر ایدارس الزبیدی پر بھی شبہات ہیں کہ وہ بیرونی ایجنڈے کے تحت کام کر رہے ہیں۔ کشیدگی کی اصل وجہ معلومات کی کمی اور غلط فہمیاں تھیں، نہ کہ براہِ راست دشمنی
سی این این: سعودی عرب اور امارات کے درمیان کشیدگی کی اصل وجہ ممکنہ غلط معلومات
