اسلام آباد میں وفاقی آئینی عدالت نے واضح کیا ہے کہ سپریم کورٹ کے حتمی فیصلے کے خلاف آئینی عدالت میں الگ سے اپیل دائر نہیں کی جا سکتی۔
چیف جسٹس امین الدین خان نے تحریری فیصلے میں قرار دیا کہ 27ویں آئینی ترمیم کے تحت وفاقی آئینی عدالت کو سپریم کورٹ کے فیصلوں پر نگرانی یا اپیل سننے کا اختیار حاصل نہیں۔ عدالت نے کہا کہ آئین غیر معینہ مدت تک مقدمات چلانے کی اجازت نہیں دیتا اور قانونی تنازعات کا اختتام ضروری ہے۔
فیصلے میں مزید کہا گیا کہ زمین کے معاوضے کا معاملہ عوامی مفاد کا نہیں بلکہ نجی نوعیت کا ہے، اس لیے آرٹیکل 184(3) کا اطلاق نہیں ہوتا۔ عدالت نے سپریم کورٹ کے 12 ستمبر 2024 کے حکم کے خلاف دائر نظرثانی درخواست مسترد کرتے ہوئے واضح کیا کہ حتمی فیصلے کو اصلاحی نظرثانی کے ذریعے دوبارہ نہیں کھولا جا سکتا۔
یہ مقدمہ درخواست گزار اور ملتان ڈویلپمنٹ اتھارٹی کے درمیان زمین کے معاوضے سے متعلق تھا۔
