ذات صلة

جمع

ایران کے خلاف مزید کارروائی کا عندیہ، ٹرمپ کے دعوؤں سے کشیدگی میں اضافہ

ڈونلڈ ٹرمپ نے دعویٰ کیا ہے کہ ایران کے خلاف ابتدائی حملوں میں اس کی اعلیٰ قیادت اور عسکری ڈھانچے کو شدید نقصان پہنچایا گیا ہے اور اب امریکا ممکنہ طور پر فوجی کارروائی کی تیسری لہر شروع کرنے کی تیاری کر رہا ہے۔

اوول آفس میں جرمن چانسلر سے ملاقات سے قبل میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ایران کی بحری اور فضائی صلاحیت، ریڈار اور نگرانی کا نظام بڑی حد تک تباہ کیا جا چکا ہے۔ ان کے مطابق حالیہ کارروائیوں میں درجنوں افراد ہلاک ہوئے اور نئی قیادت کے لیے ہونے والے ایک اجلاس کو بھی نشانہ بنایا گیا۔

ٹرمپ کا کہنا تھا کہ جن شخصیات کو ممکنہ نئی قیادت سمجھا جا رہا تھا، ان میں سے کئی مارے جا چکے ہیں اور باقی بھی حملوں کی زد میں آ سکتے ہیں۔ امریکی مؤقف کے مطابق ان اقدامات کا مقصد ایران کے جوہری اور میزائل پروگرام کو کمزور کرنا ہے۔

دوسری جانب ایران نے جوابی کارروائی کا دعویٰ کرتے ہوئے خلیجی ممالک میں امریکی تنصیبات کو نشانہ بنانے کی بات کی ہے، جبکہ حزب اللہ بھی ایران کی حمایت میں اسرائیل کے خلاف سرگرم ہونے کی اطلاعات ہیں۔

امریکی قیادت کے بیانات میں اس معاملے پر کچھ تضاد بھی سامنے آیا ہے، جہاں ایک جانب پیشگی دفاعی اقدام کی بات کی گئی، تو دوسری جانب اسرائیل کے ممکنہ خطرے کے تناظر میں کارروائی کا جواز پیش کیا گیا۔ صورتحال کے باعث خطے میں کشیدگی مزید بڑھ گئی ہے۔