ذات صلة

جمع

جدہ اسلامک پورٹ کی تاریخی نایاب تصاویر کی نمائش

کنگ عبدالعزیز پبلک لائبریری میں جدہ اسلامک پورٹ کی...

نجران میں اونٹوں کی تربیت اور ریسنگ کی ثقافتی روایت

نجران میں اونٹوں کو مقامی ثقافت اور ورثے میں...

گلوکار جوبین نوٹیال کی مبینہ خفیہ شادی کی خبریں

بھارتی پلے بیک سنگر جوبین نوٹیال سے متعلق بھارتی...

فضا علی کی ذاتی زندگی اور حق مہر سے متعلق انکشافات

معروف اداکارہ اور میزبان فضا علی نے ایک انٹرویو...

سلمان فارسی کا کنواں: مدینہ میں ابتدائی اسلامی زراعت کی یادگار

مدینہ منورہ میں ’بئر الفقیر‘ یا سلمان فارسی کا کنواں ایک تاریخی ورثہ کے طور پر آج بھی موجود ہے، جو مسجدِ نبوی سے تقریباً تین کلومیٹر کے فاصلے پر واقع ہے۔ سعودی پریس ایجنسی کے مطابق یہ مقام زمانۂ اسلام سے پہلے کا ہے اور صحابیِ رسول حضرت سلمان فارسی کی غلامی سے آزادی کے ساتھ منسلک ہے۔

حضرت سلمان فارسی، جو فارس (ایران) کے رہنے والے تھے، مدینہ میں ایک یہودی کے غلام تھے۔ اُن کی آزادی کے لیے یہودی نے شرط رکھی کہ کنویں کے اطراف میں (بعض روایات کے مطابق 300) کھجور کے درخت اگائے جائیں۔ نبی اکرم ﷺ نے صحابہ کرام کو فرمایا: ’’فقروا لصاحبکم‘‘ یعنی اپنے ساتھی کی مدد کرو، اور صحابہ کرام نے حضرت سلمان فارسی کی آزادی کے لیے زمین ہموار کی اور درخت لگانے کے لیے مخصوص سوراخ تیار کیے۔ شرط پوری ہونے پر یہودی نے حضرت سلمان فارسی کو آزاد کر دیا، جس کی مناسبت سے اس کنویں کو ’بئر الفقیر‘ کہا جاتا ہے۔

یہ کنواں تین میٹر چوڑا ہے اور اس میں پانی حاصل کرنے کا باقاعدہ نظام موجود ہے، جو ابتدائی دور میں زرعی تقاضوں اور پانی کی ضروریات کو پورا کرنے کے طریقوں کی نشاندہی کرتا ہے۔

حال ہی میں اس مقام کو جامع انداز میں بحال کیا گیا ہے تاکہ یہ محفوظ ثقافتی دلچسپی کا مرکز بن جائے، جہاں رسائی آسان ہو اور آنے والی نسلیں بھی اس تاریخی ورثے سے مستفید ہو سکیں۔