افغانستان میں انسانی حقوق کی ایک تنظیم کی رپورٹ کے مطابق ملک میں خواتین اور اقلیتوں کے خلاف مظالم میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ ٹارگٹ کلنگ، جبری گمشدگیوں اور ماورائے عدالت قتل جیسے واقعات میں 40 فیصد سے زائد اضافہ ریکارڈ کیا گیا، جس سے سینکڑوں افراد متاثر ہوئے۔
رپورٹ کے مطابق سخت پالیسیوں کے باعث خواتین کے بنیادی حقوق محدود ہو گئے ہیں اور بعض عدالتی فیصلوں میں جسمانی سزاؤں کا بھی نفاذ کیا جا رہا ہے۔ اس کے علاوہ اقلیتوں کو روزگار اور بنیادی سہولیات تک رسائی میں مشکلات کا سامنا ہے۔
ماہرین کے مطابق آزاد اداروں اور خودمختار عدلیہ کی کمی کے باعث صورتحال مزید سنگین ہوتی جا رہی ہے۔
