ماضی میں حجاج اور زائرین کے لیے سفر آسان نہیں تھا کیونکہ راستے واضح اور جدید نشانات سے خالی ہوتے تھے۔ اس وجہ سے مسافر سمت معلوم کرنے کے لیے آسمان پر موجود ستاروں، سورج اور چاند کی پوزیشن پر انحصار کرتے تھے۔
سفر کرنے والے ستاروں کی حرکت اور طلوع و غروب کو دیکھ کر اپنی منزل کا تعین کرتے اور اسی بنیاد پر خشکی اور سمندری راستوں پر آگے بڑھتے تھے۔ اسی طریقے سے موسموں اور کاشت کاری کے اوقات کا بھی اندازہ لگایا جاتا تھا۔
تاریخی طور پر بعض علاقوں جیسے العلا میں صاف آسمان کی وجہ سے ستاروں کے ذریعے رہنمائی کا عمل زیادہ عام تھا، اور آج بھی یہ خطہ فلکی سیاحت کی وجہ سے اہمیت رکھتا ہے۔
