سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان اور متحدہ عرب امارات کے صدر محمد بن زاید النہیان کے درمیان پیر کو ٹیلی فون پر بات چیت ہوئی۔ دونوں رہنماؤں نے ایران کے جاری حملوں کو خلیجی ریاستوں اور خطے کی سلامتی کے لیے خطرہ قرار دیتے ہوئے سخت الفاظ میں مذمت کی۔
سعودی پریس ایجنسی کے مطابق انہوں نے اس بات کا اعادہ کیا کہ خلیجی ممالک اپنے دفاع اور خطے کے استحکام کے لیے موجود تمام صلاحیتوں کا بھرپور استعمال کریں گے۔
یہ رابطہ ایسے وقت میں ہوا جب ایران کے سفیر علی رضا عنایتی نے دعویٰ کیا کہ ایران خلیجی ممالک پر حملوں میں ملوث نہیں بلکہ امریکی اور اسرائیلی مفادات کو نشانہ بنا رہا ہے۔ ان کے اس بیان نے شکوک و شبہات میں اضافہ کیا کیونکہ خطے کے حکام کے مطابق فروری کے اواخر سے ایران کی جانب سے ہزاروں میزائل اور ڈرون حملے کیے جا چکے ہیں، جن میں ہوائی اڈے، بندرگاہیں، توانائی کے انفراسٹرکچر اور شہری علاقے نشانہ بنے ہیں۔
اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے پچھلے ہفتے ایک قرارداد منظور کی تھی جس میں ایرانی حملوں کی مذمت کی گئی اور فوری طور پر دشمنانہ کارروائیوں کے خاتمے کا مطالبہ کیا گیا۔
