حماس کے ترجمان ابو عبیدہ نے کہا ہے کہ تنظیم پر ہتھیار ڈالنے کے دباؤ ڈالنا اسرائیل کی غزہ میں جاری نسل کشی کو طول دینے کے مترادف ہے۔
عرب میڈیا کے مطابق حماس کے مسلح ونگ نے زور دیا کہ جب تک اسرائیل غزہ میں جنگ بندی کے پہلے مرحلے پر مکمل عمل نہیں کرتا، اس سے قبل ہتھیار ڈالنے پر بات چیت کرنا فلسطینی عوام کے خلاف نسل کشی کو جاری رکھنے کے مترادف ہے۔
ترجمان نے واضح کیا کہ ہتھیاروں کے معاملے کو بھونڈے انداز میں اٹھانا قابلِ قبول نہیں۔
غزہ میں جاری کشیدگی کے دوران امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے 20 نکاتی منصوبے پر بات چیت میں حماس کا ہتھیار ڈالنے کا مسئلہ بڑی رکاوٹ بن گیا ہے، اور اکتوبر سے امریکا اور قطر کی ثالثی کے باوجود اسرائیلی حملوں میں 705 سے زائد فلسطینی جاں بحق ہو چکے ہیں۔
