ایک سری لنکن جریدے نے اپنی رپورٹ میں دعویٰ کیا ہے کہ افغانستان دہشت گرد گروہوں کے لیے محفوظ پناہ گاہ بن چکا ہے جہاں سے سرحد پار حملوں کی منصوبہ بندی اور کارروائیاں کی جا رہی ہیں۔
رپورٹ میں اقوام متحدہ کے حوالے سے کہا گیا ہے کہ افغان طالبان حکومت کی موجودگی میں دہشت گردی کے خطرات میں اضافہ ہوا ہے۔
مزید کہا گیا کہ القاعدہ اور داعش جیسے گروہ اب بھی افغانستان میں موجود ہیں، اور 2021 کے بعد ان کے روابط مزید مضبوط ہوئے ہیں۔
رپورٹ کے مطابق یہ عناصر افغان سرزمین سے پاکستان میں ہونے والی کارروائیوں میں بھی ملوث بتائے جاتے ہیں، جبکہ طالبان حکومت کی جانب سے بارہا یقین دہانی کے باوجود عالمی ادارے ان دعوؤں پر تحفظات کا اظہار کر رہے ہیں۔
