موٹاپے سے بچاؤ کے عالمی دن کے موقع پر عالمی ادارے خبردار کر رہے ہیں کہ سوشل میڈیا جسمانی وزن اور غذائی عادات پر نمایاں اثر ڈال رہا ہے۔
ماہرین کے مطابق:
-
کھانے کی عادات پر اثر: وائرل ڈائٹ چیلنجز، فاسٹ فوڈ کے اشتہارات اور انفلوئنسرز کے میل پلانز غیر صحت بخش غذائی انتخاب کو معمول بنا دیتے ہیں۔
-
سست طرزِ زندگی: طویل سکرین ٹائم جسمانی سرگرمی کو کم کرتا ہے، جس سے وزن بڑھنے کا خطرہ بڑھتا ہے۔
-
غیر حقیقی توقعات: انتہائی دبلی پتلی یا فلنس جسمانی ساخت کو مثالی قرار دینا کھانے کے امراض اور جذباتی دباؤ کا سبب بن سکتا ہے۔
-
غیر محفوظ ڈائٹس: کریش ڈائٹس اور غیر سائنسی ڈائٹ پلانز جسمانی غذائیت میں کمی اور میٹابولزم کی سست روی پیدا کر سکتے ہیں، جس سے وزن جلد دوبارہ بڑھ جاتا ہے۔
تاہم، ماہرین یہ بھی کہتے ہیں کہ سوشل میڈیا مثبت بھی ثابت ہو سکتا ہے اگر مستند غذائی معلومات، ماہرین سے رہنمائی اور صحت مند کمیونٹیز کے لیے استعمال کیا جائے
