مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی کشیدگی کے دوران امریکا نے خلیجی خطے میں اپنی فوجی موجودگی میں نمایاں اضافہ کر دیا ہے۔ ایک جانب مذاکرات کی بات کی جا رہی ہے جبکہ دوسری طرف جنگی تیاریوں کو تیز کیا جا رہا ہے۔
رپورٹس کے مطابق حالیہ کارروائیوں میں ایران کے ہزاروں فوجی اہداف کو نشانہ بنایا گیا، جس کے جواب میں ایران نے بھی میزائل اور ڈرون حملے بڑھا دیے ہیں اور آبنائے ہرمز کی صورتحال کشیدہ ہو گئی ہے۔
امریکا نے جدید بحری جہاز اور ہزاروں فوجی خطے میں تعینات کیے ہیں، تاہم ماہرین کے مطابق یہ مکمل جنگ کے بجائے محدود اور تیز رفتار آپریشنز کے لیے تیاری ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ مختلف ممالک سفارتی سطح پر کشیدگی کم کرنے کی کوششوں میں مصروف ہیں۔
