سعودی عرب میں انسانوں اور اونٹوں کے درمیان قدیم تعلق ہزاروں سال پر محیط ہے۔ تاریخی طور پر اونٹ صحرا میں نقل و حرکت، تجارت اور سفر کے لیے اہم تھے اور دودھ، گوشت اور اُون جیسی ضروریات بھی فراہم کرتے تھے، جس کی وجہ سے یہ عرب معاشروں کا بنیادی سماجی اور معاشی حصہ بن گئے۔
جزیرہ نمائے عرب، خاص طور پر العلا گورنریٹ میں پتھروں پر ملنے والے نقوش اس تعلق کی تاریخی گواہی دیتے ہیں۔ آج سعودی عرب میں 20 لاکھ سے زائد اونٹ ہیں جو ثقافتی اور معاشی قدر کے حامل ہیں۔ اونٹوں کی ریس اور حسن کارکردگی کے مقابلے انہیں جدید ورثے میں شناخت اور حوصلے کی علامت کے طور پر پیش کرتے ہیں۔ ٹیکنالوجی اور جدید نقل و حمل کے باوجود اونٹ سعودی ورثے میں اہم مقام رکھتے ہیں اور صحرا کی قدیم تاریخ کو ملک کی جدید ثقافت سے جوڑتے ہیں۔
