ایران کی جانب سے امریکا کو جنگ کے خاتمے کے لیے مذاکرات کا عندیہ دینے کی اطلاعات سامنے آئی ہیں، تاہم امریکا نے ایسی کسی باضابطہ یا فعال بات چیت کی تردید کی ہے۔
CNN کی رپورٹ کے مطابق مبینہ پیغام ایک تیسرے ملک کے ذریعے Central Intelligence Agency تک پہنچایا گیا، مگر اس کے نتیجے میں کوئی ٹھوس پیش رفت نہیں ہو سکی۔
امریکی حکام کا کہنا ہے کہ اس کے برعکس امریکا اور اسرائیل ایران کے میزائل پروگرام کو کمزور کرنے اور اسے جوہری ہتھیار حاصل کرنے سے روکنے کے لیے مشترکہ اقدامات کے مزید سخت مرحلے میں داخل ہو چکے ہیں۔ امریکی وزیر دفاع نے حالیہ بریفنگ میں کہا کہ کارروائی کا عمل ابھی ابتدائی مرحلے میں ہے۔
دوسری جانب سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے خصوصی ایلچی اسٹیو وٹکوف، جو جنگ سے قبل ایران کے ساتھ مذاکراتی عمل میں شریک رہے، نے بھی حالیہ رابطوں کی خبروں کی نفی کی ہے۔
ادھر ایران کے نائب وزیر خارجہ کا کہنا ہے کہ تہران نے واشنگٹن کو کوئی پیغام نہیں بھیجا اور اس وقت اس کی توجہ اپنی دفاعی حکمت عملی پر مرکوز ہے۔ تجزیہ کاروں کے مطابق اگرچہ باضابطہ مذاکرات جاری نہیں، تاہم پسِ پردہ سفارتی امکانات کو مکمل طور پر رد نہیں کیا جا سکتا۔z
