ذات صلة

جمع

ایران میں حملوں پر وفاقی وزیر چوہدری سالک حسین کا اظہارِ افسوس

وفاقی وزیر چوہدری سالک حسین نے تہران میں حالیہ...

ریاض بن گیا خلیجی امیروں اور عہدیداروں کے لیے انخلا کا مرکزی مرکز

علاقائی کشیدگی کے بڑھنے کے ساتھ، ریاض خلیجی ممالک سے روانگی...

جازان میں رمضان کے دوران سیاحت اور ڈیجیٹل تفریح کا منفرد امتزاج

رمضان کے مہینے میں جازان سیاحتی سرگرمیوں کا ایک متحرک مرکز...

حدودِ شمالیہ میں افطار کی روایتی خاندانی محفلیں

حدودِ شمالیہ میں رمضان کے دوران افطار کے وقت...

جی سی سی کا دوٹوک مؤقف، رکن ممالک کو دفاع اور جواب کا مکمل حق حاصل ہے

خلیج تعاون کونسل (جی سی سی) کی وزارتی کونسل کے 50ویں غیرمعمولی اجلاس میں خلیجی ریاستوں کے اس حق کی توثیق کی گئی کہ وہ کسی بھی جارحیت کا بھرپور جواب دے سکتی ہیں۔ اجلاس ویڈیو لنک کے ذریعے منعقد ہوا جس کی صدارت بحرین کے وزیر خارجہ ڈاکٹر عبداللطیف الزیانی نے کی۔

اجلاس میں شہزادہ فیصل بن فرحان سمیت رکن ممالک کے وزرائے خارجہ اور کونسل کے سیکریٹری جنرل جاسم البدیوی شریک ہوئے۔ امارات، بحرین، سعودی عرب، عمان، قطر اور کویت پر حالیہ ایرانی میزائل اور ڈرون حملوں کے اثرات اور شہری تنصیبات کو پہنچنے والے نقصانات کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔

وزارتی کونسل نے ان حملوں کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا کہ کسی ایک رکن ملک پر حملہ تمام جی سی سی ریاستوں پر حملہ تصور ہوگا۔ اجلاس میں مسلح افواج اور فضائی دفاعی نظام کی کارکردگی کو سراہا گیا جنہوں نے حملوں کو مؤثر انداز میں ناکام بنایا۔

کونسل نے واضح کیا کہ رکن ممالک کو اپنی سلامتی، خودمختاری اور شہریوں کے تحفظ کے لیے تمام ضروری اقدامات کا حق حاصل ہے، جس میں جارحیت کا جواب دینا بھی شامل ہے۔ ساتھ ہی خطے میں کشیدگی کم کرنے، فضائی و بحری سلامتی یقینی بنانے، توانائی کی عالمی منڈی کے استحکام اور سپلائی چین کے تحفظ پر زور دیا گیا۔

اجلاس میں عالمی برادری اور اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل سے مطالبہ کیا گیا کہ وہ ان واقعات کا نوٹس لے اور علاقائی و عالمی امن کو لاحق خطرات کے پیش نظر مؤثر کردار ادا کرے۔ وزارتی کونسل نے سفارتکاری کو تنازعات کے حل کا مؤثر ذریعہ قرار دیتے ہوئے خطے میں استحکام کی ضرورت پر بھی زور دیا۔