بھارت کے نجی بینک IDFC First Bank کی چندی گڑھ برانچ میں سامنے آنے والے 590 کروڑ روپے کے مبینہ مالی فراڈ کے کیس میں Haryana Anti Corruption Bureau نے چار افراد کو گرفتار کر لیا ہے۔
گرفتار ملزمان میں سابق برانچ منیجر ریبھو رشی، اس کی اہلیہ سواتی سنگلا، سواتی سنگلا کے بھائی ابھیشیک سنگلا اور ایک سابق ریلیشن شپ منیجر شامل ہیں۔ رپورٹس کے مطابق ہریانہ حکومت کے مختلف محکموں کے اکاؤنٹس سے بڑی رقوم غیر قانونی طور پر منتقل کی گئیں، جن میں سے تقریباً 300 کروڑ روپے ’سواستک دیش پروجیکٹس‘ نامی کمپنی کے اکاؤنٹ میں بھیجے گئے، جو ملزمان سے منسلک بتائی جاتی ہے۔
اینٹی کرپشن بیورو کے ڈائریکٹر جنرل اے ایس چاؤلہ کے مطابق مرکزی کردار ریبھو رشی اور اس کا ساتھی ہیں، جنہوں نے چند ماہ قبل ملازمت چھوڑ دی تھی۔ رقم کو چندی گڑھ سے موہالی کے ایک اور بینک میں منتقل کیے جانے کا انکشاف بھی ہوا ہے۔
معاملہ اس وقت سامنے آیا جب ایک سرکاری محکمے نے اپنا اکاؤنٹ منتقل کرنے کی درخواست دی اور جانچ کے دوران ریکارڈ اور اصل بیلنس میں فرق پایا گیا۔ بعد ازاں دیگر سرکاری اکاؤنٹس کی بھی چھان بین کی گئی۔
بینک نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ متعلقہ سرکاری محکموں کو تقریباً 583 کروڑ روپے بمع سود واپس کر دیے گئے ہیں اور تفتیش میں مکمل تعاون کیا جا رہا ہے۔ ملزمان کو عدالت میں پیش کیے جانے کا امکان ہے جبکہ مزید تحقیقات جاری ہیں
