ذات صلة

جمع

وفاقی وزیر چوہدری سالک حسین سے پارٹی رہنماؤں کی اہم ملاقاتیں

مرکزی سینئر نائب صدر پاکستان مسلم لیگ اور وفاقی...

اسحاق ڈار: اسرائیل کے اقدامات ناقابلِ قبول

پاکستان کے وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے کہا ہے کہ اسرائیل کے...

سعودی وزیر خارجہ سے اسحاق ڈار کا رابطہ

پاکستان کے نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے سعودی...

کیا سر پر بار بار لگنے والی چوٹیں دماغی نقصان سے جڑی ہیں؟

حالیہ تحقیق کے مطابق سر پر بار بار چوٹیں...

فریال گوہر اور جمال شاہ نے 30 سال بعد طلاق کی اصل وجہ بتا دی

پاکستانی شوبز کے سینئر اداکار Faryal Gohar اور Jamal Shah نے طلاق کے...

اسرائیل کے توسیع پسندانہ اقدامات کی سعودی عرب اور دیگر ممالک کی شدید مذمت

سعودی عرب اور متعدد برادر اور دوست ممالک نے اسرائیل کے مغربی کنارے میں غیرقانونی توسیعی اقدامات کی شدید مذمت کی ہے۔ عرب لیگ اور اسلامی تعاون تنظیم کے سیکرٹری جنرل کے ساتھ مشترکہ بیان میں کہا گیا کہ اسرائیل کی موجودہ پالیسیاں نہ صرف فلسطینی اراضی کی قانونی حیثیت کو متاثر کر رہی ہیں بلکہ خطے میں امن و استحکام کے لیے بھی خطرہ ہیں۔

اہم نکات:

  • اسرائیل نے مغربی کنارے میں فلسطینی اراضی کو دوبارہ درجہ بندی کرکے اسے ’ریاستی زمین‘ قرار دینے اور غیرقانونی آبادکاری کو تیز کرنے کی کوشش کی ہے۔

  • وزرائے خارجہ نے کہا کہ یہ اقدامات بین الاقوامی قانون، اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادیں اور 2024 میں عالمی عدالتِ انصاف کی مشاورتی رائے کی صریح خلاف ورزی ہیں۔

  • اقدامات جیسے منصوبہ ’ای ون‘ فلسطینی ریاست کے قیام اور دو ریاستی حل کی بنیادوں پر حملہ ہیں اور کسی بھی قسم کے الحاق کی مکمل مخالفت کی گئی۔

  • وزرائے خارجہ نے اسرائیل سے مطالبہ کیا کہ فلسطینیوں کے خلاف تشدد روکیں، ذمہ دار عناصر کو احتساب کے لیے پیش کریں اور فلسطینی اتھارٹی کی روکی گئی ٹیکس آمدنی فوری طور پر جاری کریں۔

  • بیان میں اردن کے خصوصی کردار اور القدس کے مقدس مقامات کی تاریخی و قانونی حیثیت کو برقرار رکھنے کی اہمیت کو تسلیم کیا گیا۔

بیان کے اختتام میں وزرائے خارجہ نے عالمی برادری کے ساتھ مل کر مشرق وسطیٰ میں منصفانہ، جامع اور دیرپا امن قائم کرنے کے عزم کا اعادہ کیا، جس کی بنیاد دو ریاستی حل، عرب امن اقدام، اقوام متحدہ کی متعلقہ قراردادیں اور 4 جون 1967 کی سرحدیں ہوں گی۔

اس مشترکہ موقف سے واضح ہے کہ اسرائیل کی غیرقانونی آبادکاری اور الحاق کی پالیسیاں نہ صرف فلسطینی حقوق کے لیے خطرہ ہیں بلکہ خطے میں امن و استحکام کو بھی متاثر کر رہی ہیں