امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے بیٹے ایرک ٹرمپ نے ایک اسرائیلی ڈرون بنانے والی کمپنی میں سرمایہ کاری کی ہے، جس کے بعد مفادات کے ٹکراؤ کے امکانات پر بحث چھڑ گئی ہے۔
عرب میڈیا الجزیرہ کے مطابق یہ سرمایہ کاری تقریباً ڈیڑھ ارب ڈالر کے معاہدے کا حصہ ہے، جس کے تحت اسرائیلی کمپنی ایکسٹینڈ کو امریکی تعمیراتی ادارے جے ایف بی کنسٹرکشن ہولڈنگز کے ساتھ ضم کر کے اسی سال اسٹاک مارکیٹ میں لانے کی منصوبہ بندی کی جا رہی ہے۔
رپورٹ کے مطابق کمپنی کے ڈرونز اسرائیلی فوج کی جانب سے غزہ میں استعمال ہو چکے ہیں، اور اسے امریکی محکمۂ دفاع سے بھی کئی ملین ڈالرز کے ٹھیکے ملے ہیں، جن میں دسمبر 2024ء کا 8.8 ملین ڈالر کا معاہدہ بھی شامل ہے۔ مزید یہ کہ کمپنی کو پینٹاگون کے کم لاگت جنگی ڈرون پروگرام کے لیے منتخب اداروں میں شامل کیا گیا ہے۔
ایرک ٹرمپ کا کہنا ہے کہ ڈرون ٹیکنالوجی مستقبل کی اہم ضرورت ہے اور انہیں اس شعبے میں سرمایہ کاری پر فخر ہے۔ تاہم ناقدین کا کہنا ہے کہ صدر کے خاندان کی اس طرح کی سرمایہ کاری سے مفادات کے ٹکراؤ کا تاثر پیدا ہو سکتا ہے۔
وائٹ ہاؤس اور متعلقہ اداروں کی جانب سے اس معاملے پر کوئی باضابطہ ردعمل نہیں آیا۔
