ترجمان سندھ حکومت سعدیہ جاوید کا کہنا ہے کہ شہر میں پولیس اہلکاروں کی کمی کے باعث ممکن ہے ایم کیو ایم پاکستان کے رہنماؤں سے سیکیورٹی واپس لی گئی ہو۔ ان کے مطابق خود ان کے پاس اور حکومتی اراکین سندھ اسمبلی کو بھی سیکیورٹی فراہم نہیں کی گئی۔
انہوں نے بتایا کہ صوبے میں فرانزک لیب کا اب تک فعال نہ ہونا حکومتی کمزوری رہی، تاہم سال کے اختتام تک لیب کام شروع کر دے گی۔
گل پلازا سے متعلق انہوں نے کہا کہ متاثرہ دکانداروں کو قریبی دو پلازوں میں منتقل کرنے کے لیے مالکان سے بات چیت جاری ہے، جہاں مجموعی طور پر 850 دکانوں کی گنجائش ہے۔ ایک کمیٹی نقصان کا تخمینہ لگا کر تین ہفتوں میں رپورٹ پیش کرے گی اور حکومت ازالہ کرے گی۔
پولیس نفری کی کمی، ایم کیو ایم رہنماؤں کی سیکیورٹی واپسی کی وجہ ہو سکتی ہے: سندھ حکومت
