امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے نیٹو اتحادیوں کے دباؤ کے بعد ایران پر ممکنہ حملے اور گرین لینڈ پر قبضے سے متعلق اپنے سخت مؤقف سے پیچھے ہٹنے کا اعلان کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ گرین لینڈ کے معاملے پر طاقت کا استعمال نہیں کیا جائے گا۔
ڈاؤس میں خطاب کرتے ہوئے ٹرمپ نے بتایا کہ نیٹو کے ساتھ گرین لینڈ کے مستقبل پر ابتدائی سمجھوتہ طے پاگیا ہے جبکہ یکم فروری سے نافذ کیے جانے والے ٹیرف بھی واپس لے لیے گئے ہیں۔ ان کے مطابق یہ فیصلہ نیٹو کے سیکریٹری جنرل سے ملاقات کے بعد کیا گیا۔
ٹرمپ نے ایک بار پھر مختلف عالمی تنازعات جن میں پاک بھارت کشیدگی بھی شامل ہے، کم کرانے کا ذکر کیا اور امید ظاہر کی کہ ایران کے خلاف مزید کوئی کارروائی نہیں ہوگی۔ انہوں نے دعوی کیا کہ روسی صدر پیوٹن نے بورڈ آف پیس میں شمولیت کی دعوت قبول کی ہے، تاہم صدر پیوٹن کا کہنا ہے کہ وہ ابھی اس معاملے پر غور کر رہے ہیں۔
نیٹو کے دباؤ پر ٹرمپ کا ایران اور گرین لینڈ سے متعلق مؤقف تبدیل
